نئی دہلی،یکم فروری(آئی این ایس انڈیا) دہلی میں شہریت قانون اوراین آرسی کے خلاف احتجاج میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔شاہین باغ اور جامعہ یونیورسٹی سے شروع ہونے والے مظاہرے دہلی کے 20 الگ الگ جگہوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اسے لے کر الیکشن کمیشن اور پولیس بھی فکر مندہیں۔ چیف الیکشن افسر ڈاکٹر رنبیر سنگھ نے ضلع الیکشن افسر اور پولیس عملے کے ساتھ شاہین باغ کے ارد گرد کے پولنگ اسٹیشنوں اور بوتھوں کاجائزہ لیا۔ بند راستوں کی وجہ سے ووٹروں کو ہونے والی پریشانیوں کا بھی جائزہ لیا اور متبادل راستوں کے استعمال کی طرف توجہ دی۔ ان باتوں کی جانکاری چیف الیکشن کمشنر کی میٹنگ میں دی گئیں۔
یاد رہے کہ شاہین باغ میں تقریباََ45 دنوں سے احتجاج ہورہاہے۔لیڈروں کے بگڑے دھن پر الیکشن کمیشن جزوی طورپرنام نہاد کارروائی کر رہاہے۔غنڈہ گردی کی ترغیب دینے والے انوراگ ٹھاکرجن کے نعرے کے بعددو مرتبہ جامعہ نگرمیں فائرنگ ہوچکی ہے،کی اب تک گرفتاری نہیں ہوئی ہے جس سے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھ رہے ہیں۔ دہلی پولیس نے ان کے خلاف اب تک کوئی مقدمہ بھی درج نہیں کیا ہے جبکہ دومذہب، دوکمیونٹی یامعاشرے کے درمیان نفرت پھیلانے کے معاملے میں پولیس کی آئی پی سی میں مقدمہ درج کرانا چاہئے تھا۔ بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے جمعہ کودومیٹنگیں کیں۔پہلی میٹنگ چیف الیکشن افسر، چیف سکریٹری، پولیس کمشنر اور دہلی انتظامیہ کے سینئر حکام کے ساتھ کی جبکہ دوسری میٹنگ چیف سکریٹری، پولیس کمشنر، داخلہ سکریٹری، فنانس سیکرٹری کے ساتھ کی جس میں پرامن انتخابات کرانے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
الیکشن کمیشن مبصرین اور ضلع الیکشن افسراورپولیس حکام نے اب دہلی میں 41 پوائنٹس نامزدکیے ہیں۔جہاں پولیس کی اضافی تعیناتی رہے گی۔جنوب مشرقی ضلع میں گیٹ -7 جامعہ یونیورسٹی، شاہین باغ روڈنمبر13، لالہ لاجپت رائے نظام الدین، جنوبی ضلع میں ڈانڈی پارک،حوض خاص،مالویہ نگر، مشرقی ضلع میں ترکمان گیٹ، جوابات ضلع میں اندرلوک میٹرو اسٹیشن کے قریب، ڈیری والا پارک آزاد مارکیٹ جنگل والی مسجد، شاہی عید گاہ کے ایسٹ گیٹ پر احتجاج مسلسل جاری ہیں۔